گوہاٹی، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آسام میں زہریلی شراب پینے کی وجہ سے گولاگھاٹ اور جورہاٹ اضلاع کے ہسپتال میں اور بہت سے لوگوں کی موت ہو گئی۔اس کے بعد مرنے والوں کی تعداد اتوار کو بڑھ کر 143 ہو گئی۔اس سلسلے میں حکام نے معلومات فراہم کی ہے۔اتوار کی شام تک گولاگھاٹ میں 85 اور جورہاٹ میں 58 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔گولاگھاٹ ڈپٹی کمشنر دھیرینے ہجارکا نے کہاکہ زہریلی شراب پینے کے بعد گولاگھاٹ ضلع میں کل 85 لوگوں کی موت ہو گئی،جن میں 54 مرد اور 31 خواتین شامل ہیں۔ضلع میں قریب 100 لوگوں کا علاج چل رہا ہے۔دوپہر بعد سے نئے مریضوں کے آنے کا سلسلہ کم ہوا ہے۔
اسی طرح سے جورہاٹ کی ڈپٹی کمشنر روشنی کوراتی نے بتایا کہ ان کے ضلع میں زہریلی شراب پینے کی وجہ سے اتوار تک 58 لوگوں کی موت ہوئی ہے،جن میں 43 مرد اور 15 خواتین شامل ہیں،جبکہ جورہاٹ طبی کالج اور ہسپتال میں کل 160 لوگوں کا علاج چل رہا ہے۔ان میں سے 16 کی حالت بہت خراب بتائی جا رہی ہے۔
آبکاری محکمہ نے ریاست بھر میں غیر قانونی مقامی شراب کے خلاف سلسلہ وار مہم چلائی ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد لوگوں بالخصوص خواتین نے کئی مقامی شراب کی دکانوں کو منہدم کر دیا ہے،لوگوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی گروپوں نے پورے آسام میں سڑکوں پر اترکر زہریلی شراب بیچنے والوں کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ آبکاری محکمہ کے ایک سینئر ترجمان نے کہا کہ آبکاری قانون کی خلاف ورزی اور غیر قانونی شراب کی فروخت اور پیداوار کی کل 90 کیس درج کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے 22 فروری سے اب تک 4،860 لیٹر غیر قانونی شراب ضبط اور تباہ کیا ہے۔
ادھر وزیر اعلی سرباند سونووال نے ہفتہ کو جورہاٹ میڈیکل کالج اور ہسپتال کا دورہ کیا اور متاثرین کا حال جانا۔انہوں نے متاثرین کے خاندانوں کو دو لاکھ روپے اور علاج کروا رہے لوگوں 50000 روپے کی فاضل رقم دینے کا اعلان کیا۔دارالحکومت سے 300 کلومیٹر دور گولاگھاٹ کے سالمورا چائے باغان اور جورہاٹ ضلع کے ٹٹوربور سب ڈویژن کے دو دور دراز دیہات میں جمعرات کی رات بڑی تعداد میں لوگوں نے زہریلی شراب کا استعمال کیا تھا،جس کے بعد بہت سے لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔